اُف پھر سات بج گئے

Read Story No. 2





اُف سات بج گئے!
تحریر : شہزاد الیاس

’’میرے لاکھ سمجھانے کے باوجود مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک بھی رینگی ہو!‘‘ مسٹر فرانسس بڑبڑاتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ ’’نواب صاحب سکول سے آ کر سارا دن پلنگ توڑتے رہتے ہیں۔سات بجنے سے پہلے جناب کو اپنے دوستوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ بس نکل جاتے چپ چاپ موڑوں پر وقت برباد کرنے کے لئے۔ اور ایک ہماری بِٹیا رانی ہیں جنہیں بناؤ سنگھار اور ٹی۔ وی دیکھنے ہی سے فرصت نہیں ملتی۔ کتنی بار کہا ہے سات بجے سب لوگ خاندانی عبادت کے لئے تشریف لے آیا کریں پر کسی کو کوئی پروا نہیں۔‘‘ مسٹر فرانسس غصے سے لال پیلے ہو رہے تھے۔ ’’دیکھو ہماری اِرم بھی تو ہے پورے سات بجے اپنی بائبل اور گیتوں کی کتاب لے کر بیٹھ جاتی ہے۔ اپنے بچوں سے تو بہو ہی اچھی ہے۔ کم از کم حکم تو مانتی ہے۔ دیکھو رِفعت بیگم، مَیں اپنے گھر میں ایسی بے ترتیبی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ سب تمہارے بے جا لاڈ پیار کا نتیجہ ہے جو وہ اِتنے بے پروا اور بدتمیز ہیں۔ تم اُنہیں سمجھاتی کیوں نہیں؟‘‘ مسٹر فرانسس نے غصے سے بیگم رِفعت کی طرف دیکھا۔
’’آپ بھی ہمیشہ ہر بات کا ذمہ دار مجھے ہی ٹھہراتے ہیں۔ بھلا مَیں اُن سے کہتی ہوں کہ عبادت میں نہ بیٹھیں؟ اب وہ دونوں بڑے ہیں۔ مَیں اُن پر زیادہ سختی بھی تو نہیں کر سکتی،‘‘ بیگم رِفعت نے فوراً جواب دیا۔
مسٹر فرانسس کے گھر میں ہر روز شام سات بجے سے پہلے لڑائی ہوتی تھی۔اُن کا چھوٹا بیٹا سنی اور بیٹی صوفیہ ہمیشہ خاندانی عبادت میں بیٹھنے سے کتراتے تھے۔ بڑا بیٹا کاشف دو سال سے دبئی میں ملازمت کر رہا تھا اور اُس کی بیوی اِرم بھی اپنے ویزے کے انتظار میں تھی کہ کب آئے اور وہ اپنے شوہر کے پاس دُبئی چلی جائے۔ مسٹر فرانسس بڑی رُعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ محکمہ تعلیم میں افسرتھے اور اپنے غصے کی وجہ سے پورے خاندان میں مشہور تھے۔ اُن کی بھاری بھرکم آواز غصے میں اَور بھی گرج دار ہو جاتی تھی۔
’’
سارے دن میں کیا یہ آدھا گھنٹا بھی خدا کے لئے نہیں نکال سکتے؟‘‘ مسٹر فرانسس ہر روز کی طرح بولتے ہی چلے جا رہے تھے۔
’’
ابو جی، ہم لوگ شروع کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی آ جائیں گے،‘‘ اِرم نے سر جُھکا ئے دھیمی آواز میں کہا۔
’’
بیٹا ہم تو دُعا شروع کر ہی لیں گے پر کیا اُن دونوں کو توفیق نہیں کہ وقت پر آ جائیں تاکہ مِل کر خاندانی عبادت کا آغاز کریں؟‘‘
مسٹر فرانسس نے مختصر سی اِبتدائی دُعا کے بعد زبور ۱۸ ’آپے اُپروں ہتھ ودھا کے مینوں رب بچاوے گا‘ نکالا اور گانے لگے۔ پھر اُنہوں نے اپنی بہوسے دُعا کے لئے کہا۔ اِتنے میں سیڑھیوں سے تیز تیز اُترتی ہوئی صوفیہ بھی دُعا میں آبیٹھی۔عبادت کے اختتام سے کچھ دیر پہلے سنی بھی آکر خاموشی سے بیٹھ گیا۔مسٹر فرانسس لیٹ آنے کی وجہ سے اکثر اِن دونوں کو دُعا کے لئے نہیں کہتے تھے۔ خاندانی عبادت کا ایک بڑا خاص حصہ جس میں بائبل مُقدس سے ایک باب پڑھا جاتا تھا، اُس کا انتخاب بھی مسٹرفرانسس خود کرتے تھے۔
’’
مجھے سمجھ نہیں آتی، ایک تو ہمیشہ لیٹ آتے ہو اور پھر بائبل مُقدس بھی نہیں لاتے،‘‘ مسٹر فرانسس ایک مرتبہ پھر سیخ پا ہو گئے۔
صوفیہ خاموشی سے اُٹھی اور پچھلے کمرے میں بائبل لینے چلی گئی۔
’’
پلیز میری بائبل بھی لیتی آنا،‘‘ سنی نے پیچھے سے آواز دی۔
’’
بھئی حد ہے ڈھٹائی اور بدتمیزی کی،‘‘ مسٹر فرانسس نے عینک میں سے سنی کو گھورا۔
صوفیہ جب اپنی اور سنی کی بائبل لے آئی تو مسٹر فرانسس نے صوفیہ سے یرمیاہ نبی کے صحیفے میں سے دوسرا باب پڑھنے کے لئے کہا جس میں وہ کئی الفاظ کو ٹھیک طرح سے نہیں پڑھ سکی۔
’’
نالائقی کی اِنتہا ہے! دسویں جماعت میں ہو اور ٹھیک سے اُردو بھی نہیں پڑھ سکتی۔‘‘ مسٹر فرانسس نے صوفیہ کو بُری طرح ڈانٹ دیا۔ بیگم رِفعت نے مسٹر فرانسس کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری۔
خدا خدا کر کے عبادت ختم ہوئی۔ صوفیہ فوراً پچھلے کمرے میں بائبل رکھ کر تیز تیز چلتی ہوئی پھر اُوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ لیکن سنی کی شامت آ گئی اور مسٹر فرانسس نے جو کچھ اُن کے دل میں آیا کہہ ڈالا۔ سنی سر جھکا کر اُن کی جلی کٹی باتیں سُنتا رہا اور پھر سر جھٹک کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
’’
رِفعت دیکھ رہی ہو اپنی اولاد کے کرتوت؟ شرم نام کی کوئی چیز نہیں اِن میں۔ تم کر لو اِن کی طرف داریاں۔‘‘
’’
آپ نے کبھی پوچھا ہے اُن سے کہ وہ عبادت میں بیٹھنا کیوں پسند نہیں کرتے؟ آپ کے سر پر تو بس ہر وقت غصہ سوار رہتا ہے یا بس مجھے ذمہ دار ٹھہراتے رہتے ہیں،‘‘ بیگم رِفعت کی آواز رُندھ گئی۔
’’
تو اَور کسے ذمہ دار ٹھہراؤں؟ یہ ماں کا کام ہوتا ہے کہ بچوں کو تہذیب سکھائے پر تمہیں خود تہذیب کا نہیں پتا، تم سے تو گِلہ کرنا بھی بے کار ہے۔ جیسے تمہارے خاندان کے لوگ عقل سے خالی ہیں ویسی ہی تم ہو،‘‘ مسٹر فرانسس آگ بگولہ ہو گئے۔ بیگم رِفعت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جنہیں وہ اپنے دوپٹے سے پوچھنے لگی۔
’’
رونا تو بس تمہاری ناک پر رکھا ہے۔ کچھ بھی کہو تو بیٹھ گئی آنسو بہانے۔ رونے کے بجائے بچوں پر دھیان دیا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔‘‘ مسٹر فرانسس نے اُونچی آواز میں ٹی۔ وی لگا لیا اور سیاسی تبصرہ سُننے لگے۔
اِتنے میں اِرم نے آ کر خاموشی سے میز پر کھانا لگا دیا۔ مسٹر فرانسس کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے اور ساتھ ساتھ کبھی ٹی۔ وی اور کبھی بیگم رِفعت کو غصے سے دیکھ لیتے۔
’’
بھئی کیا یہ کھانا ہسپتال سے آیا ہے؟ نہ مرچیں نہ نمک،‘‘ مسٹر فرانسس کی آواز نے پورا گھر ہلا دیا۔
اِرم جلدی سے سر جھکائے آئی اور نمک دانی میز پر رکھ دی جس میں کالی مرچ اور نمک کی دو الگ الگ بوتلیں تھیں۔
’’
کیا بنے گا اِس گھر کا!‘‘ مسٹر فرانسس بڑبڑانے لگے۔
اِرم نے بیگم رِفعت سے پوچھا، ’’امی آپ کو بھی کھانا لا دُوں؟‘‘
’’
نہیں بیٹا، مجھے ابھی بھوک نہیں۔ جب لگے گی مَیں کھا لوں گی۔ تم بس اپنے ابو کو چائے بنا دو، برتن مَیں اُٹھا لوں گی۔‘‘
تھوڑی دیر کے بعد اِرم چائے بنا کر لے آئی اور میز پر رکھ کر اُوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ بیگم رفعت نے برتن اُٹھائے اور کچن میں جا کر برتن دھونے لگیں۔
’’
یا خدا مَیں کہاں چلا جاؤں؟ کیا ہمارے گھر میں چینی نہیں آتی؟ پھیکی چائے دے گئی ہے بہو رانی نہ سُر نہ سواد۔ ارے کوئی چینی دے جائے مجھے،‘‘ مسٹر فرانسس نے اُونچی آواز لگائی۔
بیگم رِفعت نے چینی دان لا کر میز پر رکھ دیا۔ مسٹر فرانسس نے عینک میں سے بیگم رِفعت کو گھورا۔
مسٹر فرانسس کا حکم تھا کہ سب جلدی سو جایا کریں تاکہ صبح جلدی اُٹھ سکیں۔ وہ خود اور بیگم رِفعت تو اِس اُصول پر کاربند تھے لیکن چونکہ بچے اُوپر والی منزل پر ہوتے تھے اِس لئے وہ دیر سے سوتے تھے۔ مسٹر فرانسس اور بیگم رِفعت کے سونے کے بعد اِرم صوفیہ اور سنی کے کمرے میں چلی گئی۔ ’’ مَیں نے اندازہ لگایا ہے تم دونوں بہت ڈھیٹ اور ضدی ہو‘‘۔
’’
بھابھی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘
’’
ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں۔میرے لاکھ سمجھانے پر بھی تم لوگ وقت پر عبادت میں شریک نہیں ہوتے۔‘‘
’’
بھابھی آپ جانتی ہیں ابو بات بات پر ڈانٹتے ہیں۔کیا بھلا ایسے بھی دُعا ہوتی ہے؟‘‘ صوفیہ نے جلدی سے جواب دیا۔
’’
اِتنی ڈانٹ تو ہمیں سکول میں نہیں پڑتی جتنی ابو سے پڑ جاتی ہے،‘‘ سنی غصے میں بولا۔
’’
دیکھو مَیں سمجھتی ہوں کہ ابو چاہتے ہیں کہ تم لوگ وقت کی پابندی کرو، لیکن تم ہو کہ جان بُوجھ کر اُنہیں چِڑاتے ہو۔ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے!‘‘
’’
ہم نے وقت کی پابندی بھی کر کے دیکھ لی ہے، وہ پھر بھی ڈانٹتے ہیں‘‘۔
’’
تو پھر تم یہ سمجھ کر عبادت میں وقت پر آیا کرو کہ اُن کی طبیعت ہی ایسی ہے۔ شاید پھر تمہیں اُن کی باتیں بُری نہ لگیں۔‘‘
’’
بھابھی ابو چاہتے ہیں کہ سارے گھر والے اُن کے کہنے کے مطابق بدل جائیں، پر کیا اُنہوں نے خود بھی کبھی سوچا ہے کہ اُن میں کتنی خامیاں ہیں؟‘‘ سنی نے کرختگی سے جواب دیا۔
’’
دیکھو وہ عمر اور رُتبے میں ہم سے بڑے ہیں۔ تمہیں ایسی باتیں نہیں سوچنی چاہئیں۔‘‘ اِرم کی آواز میں غصے کی تیزی بھی تھی اور نصیحت کی نرمی بھی۔
’’
آپ برداشت کر سکتی ہیں، ہم سے برداشت نہیں ہوتا،‘‘ صوفیہ نے سنی کی تائید کرتے ہوئے کہا۔
’’
مَیں جانتی ہوں کہ اُن کا انداز ٹھیک نہیں ہے، لیکن دُعا سے دُوری کوئی اچھی بات نہیں۔‘‘
’’
بھابھی، ہم تو شوق سے ہی عبادت میں بیٹھتے تھے پر اب ہمارا دل نہیں چاہتا کہ ابو کے ساتھ دُعا میں بیٹھیں۔ ایسی دُعا اور ایسی بائبل مُقدس پڑھنے کا کیا فائدہ کہ آپ اُس کا اپنے پر کوئی اثر ہی نہ لیں؟ میری سمجھ کے مطابق تو یہ ہے کہ جب ہم اپنی زندگی میں اِس کا اثر ہی نہیں لے رہے تو دُعا کرنا اور بائبل مُقدس کو پڑھنا فضول ہے۔‘‘ سنی مسلسل بول رہا تھا۔ ’’ابو کو ساری غلطیاں ہم لوگوں میں نظر آتی ہیں۔ کیا بس ہمیں ہی تبدیل ہونے کی ضرورت ہے؟ اُنہیں بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہئے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ دُعا کا بہانہ بنا کر ہمیں ذلیل کیا جاتا ہے۔‘‘
صوفیہ رُندھی ہوئی آواز میں بولی، ’’جیسے ہی سات بجتے ہیں ہمارے گھر میں طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ کاش ہمارے گھر میں کبھی دُعا ہی نہ ہو! کم از کم اپنے کمرے میں سکون سے رہ تو سکتے ہیں، ورنہ ابو تو موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کب ہم اُن کے سامنے جائیں اور وہ اپنے طنز کے تیر ہم پر برسا سکیں۔ سچ پوچھیں ہم دونوں بہت بے دل ہیں۔‘‘ صوفیہ کی باتوں سے غصہ اور ما یوسی ٹپک رہی تھی۔
’’
صوفیہ اور سنی میری بات غور سے سنو،‘‘ اِرم نے دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ لیا اور دونوں کی طرف بڑی محبت سے دیکھا۔ ’’کیا تم دونوں میرے ایک سوال کا جواب دو گے؟‘‘ اِرم نے بڑی نرمی سے پوچھا۔
’’
جی بھابھی آپ بے دھڑک پوچھیں،‘‘ سنی نے جلدی سے جواب دیا۔
اِس سے پہلے کہ اِرم کچھ کہتی اُس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔ سنی اور صوفیہ کا بھی دل بھر آیا۔ ’’کیا تم دونوں ابو سے محبت نہیں کرتے؟ محبت تو سب کچھ سہہ لیتی ہے۔‘‘
’’
بھابھی، یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ہمیں ابو کی عادات اور اُن کے رویے سے چاہے جتنا بھی اختلاف ہو، لیکن ہیں تو وہ ہمارے ابو جن کے لئے ہماری جان بھی حاضرہے۔‘‘ یہ کہہ کر سنی رونے لگا۔ اِرم، صوفیہ اور سنی تینوں لپٹ گئے اور خوب روئے۔
’’
بچو مَیں تمہارے درد کو سمجھ سکتی ہوں اور مَیں چاہتی ہوں کہ ہم تینوں ایک کام کریں،‘‘ اِرم نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’
جی بھابھی بتائیں،‘‘ صوفیہ اور سنی نے قدرے سنبھلتے ہوئے پوچھا۔
’’
تم جانتے ہو انسان ہوتے ہوئے ہمارے اندر کتنی کمزوریاں ہیں، ٹھیک ہے نا؟ پر کئی مرتبہ چاہتے ہوئے بھی ہم اُن کمزوریوں پر غالب نہیں آ پاتے۔ کیا مَیں ٹھیک کہہ رہی ہوں؟‘‘ اِرم نے سوالیہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھا۔ ’’ہاں، پر جب ہم اپنی کمزوریاں اپنے زندہ خدا کے سامنے لے کر آتے ہیں اور اُس سے مدد مانگتے ہیں تو وہ ہمیں ہماری کمزوریوں پر غالب آنے کے لئے اپنا فضل عنایت کرتا ہے۔ خدا کے فضل کی بدولت ہم وہ کر سکتے ہیں جو ہم اپنی قوت، ارادے اور صلاحیت سے نہیں کر سکتے۔‘‘
’’
جی بھابھی ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘‘
’’
تو پھر ٹھیک ہے، آج ہم وہ کریں گے جو اِس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں کیا۔‘‘
’’
وہ کیا بھابھی؟‘‘
’’
وہ یہ کہ ہم آج اپنے ابو کے لئے دُعا کریں گے کہ خدا اُن کی زندگی کو تبدیل کرے اور ساتھ ہی ساتھ ہم اپنے لئے بھی دُعا کریں گے کہ خدا ہمیں بھی بدلے۔ خدا ہمیں صبر اور برداشت کرنے کا حوصلہ دے کیونکہ ہم میں اِن دونوں باتوں کی کمی ہے۔ اگر تم میری اِس بات سے متفق ہو تو آؤ ہم گھٹنوں کے بل جھک کر اپنے خدا سے دُعاکریں کہ وہ ہم سب کی زندگیوں میں ایک جلالی کام کرے۔‘‘
دُعا کے دوران اُنہیں ایسا لگا جیسے ایک بڑا بوجھ اُن کے کاندھوں سے اُتر گیا ہو۔ وہ تینوں خوشی اور اُمید سے بھر گئے کہ اب آنے والے دِنوں میں خدا ضرور کچھ کرنے والا ہے۔
’’
کیا تم خوش ہو؟‘‘ اِرم نے صوفیہ اور سنی سے پوچھا۔
’’
جی ہم واقعی بہت خوش ہیں،‘‘ دونوں نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’
تو پھر ایک وعدہ کرو ۔کل سات بجے تم وقت پر دُعا میں آؤ گے خواہ کتنی ہی ڈانٹ پڑے۔ وعدہ؟‘‘
’’
پکا وعدہ!‘‘ سنی اور صوفیہ ہم آواز ہو کر بولے۔
کئی ہفتے گزر گئے پر حالات جوں کے توں ہی تھے۔ لیکن وہ تینوں رات کو روزانہ دُعا کرتے رہے اور اُن کا ایمان تھا کہ خدا کام کر رہا ہے۔ آج بچوں سمیت بیگم رِفعت بھی بہت خوش تھیں کیونکہ وہ لوگ بہت دنوں کے بعد اکٹھے گھر سے باہر جا رہے تھے۔ مسٹر فرانسس کی چھوٹی بہن نسرین کے ہاں اُن کی کھانے پر دعوت تھی۔
’’
امی آج تو آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں،‘‘ اِر م نے ہنستے ہوئے بیگم رِفعت کی تعریف کی۔
اُنہوں نے بھی مُسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور بولیں، ’’بچو تم بھی جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ لیٹ ہوئے تو جانتے ہو نا کُہرام مچ جائے گا گھر میں۔‘‘
صوفیہ سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے بولی، ’’امی ہم بھی تیار ہی ہیں۔ سنی نے بھی کپڑے پہن لئے ہیں بس بُوٹ پالش کر رہا ہے۔‘‘
’’
میرے کپڑے کس نے اِستری کئے ہیں؟‘‘ مسٹر فرانسس غصے سے اپنی قمیص ہاتھ میں لئے ہوئے اپنے کمرے سے نکلے۔
’’
جی وہ مَیں نے کئے تھے،‘‘ بیگم رِفعت نے گھبراتے ہوئے کہا۔
’’
کیسی عورت ہو تم! ابھی تک تمہیں کپڑے اِستری کرنے نہیں آئے؟‘‘ مسٹر فرانسس غصے سے لال پیلے ہو رہے تھے۔
’’
دیجئے مَیں دوبارہ اِستری کر دیتی ہوں،‘‘ بیگم رِفعت نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’
رہنے دو!‘‘
’’
پھر کر دیتی ہوں۔‘‘
’’
اِرم بیٹا، تم اِسے سامنے سے ذرا اِستری کر دو۔ دیکھو کتنی سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں۔‘‘
اِرم نے جلدی سے قمیص پکڑی اور اِستری کرنے چلی گئی۔
گاڑی بڑی تیزی سے جوہر ٹاؤن کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سب بالکل خاموش بیٹھے اِدھر اُدھر کے مناظر دیکھ رہے تھے۔ راستے میں مسٹر فرانسس نے مٹھائی کی دُکان پر گاڑی روکی اور کچھ مٹھائی پیک کروائی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ بیگم نسرین کی کوٹھی کے سامنے کھڑے تھے۔ سب بہت خوش تھے خاص طور پر بچے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب کچھ گھنٹے خوب مزہ آئے گا۔ بیگم نسرین کے دو بچے تھے۔ روبن اُن کا بڑا بیٹا تھا جو بی۔اے کا طالب علم تھا جب کہ اُن کی چھوٹی بیٹی تابندہ ایف۔اے میں پڑھتی تھی۔ بیگم نسرین ایک گھریلو خاتون تھیں جب کہ اُن کے شوہر مسٹر عرفان گارمنٹس کا اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار کرتے تھے جن سے اُنہیں اچھی کمائی ہو جاتی تھی۔ مسٹر عرفان بڑے ہی خوش مزاج انسان تھے، ہر وقت ہنستے رہتے تھے۔
سب ڈرائنگ رُوم میں بیٹھے تھے۔ مسٹر عرفان نے سنی سے پوچھا، ’’کیوں بھئی سنی میاں کیسے مزاج ہیں؟ کیا ہو رہا ہے آج کل؟‘‘
’’
صاحب زادے کی عیش ہے بس، کھانا، پینا، سونا اور آوارہ گردی کرنا،‘‘ سنی سے پہلے مسٹر فرانسس نے سرد لہجے میں جواب دِیا۔ بیگم رِفعت نے مایوسی سے صوفیہ اور اِرم کی طرف دیکھا۔ مسٹر عرفان بھی شرمندہ سی ہنسی ہنس کر خاموش ہو گئے۔
بیگم نسرین نے جب دیکھا کہ سب کولڈ ڈرنکس پی چکے ہیں تو اُنہوں نے مسٹر فرانسس سے کہا، ’’بھائی جان کیا خیال ہے کھانے سے پہلے سب مل کر دُعا کر لیں؟‘‘
’’
ہاں ہاں ضرور یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔‘‘
’’
آ جاؤ بچو، سب ترتیب سے بیٹھو۔ دُعا شروع کریں،‘‘ بیگم نسرین نے بڑی شفقت سے بچوں کو مخاطب کیا۔ ’’چلو روبن بیٹا، تم اِس دُعا میں ہماری راہنمائی کرو۔‘‘
روبن نے اُٹھ کر سب سے پہلے شکرگزاری کی مختصر دُعا کی، پھر سب نے مل کر ایک گیت گایا۔ اِرم نے پاک کلام کے لئے دُعا کی پھر روبن نے ہی یوحنا کی انجیل میں سے زندگی بخش پیغام پیش کیا۔ مسٹر فرانسس بڑی خوشی سے روبن کی باتیں سُن رہے تھے۔ جیسے ہی عبادت ختم ہوئی اُنہوں نے اُٹھ کر روبن کو اپنے گلے لگا لیا اور اُس کا ماتھا چوم کر بولے، ’’واہ! بیٹا روبن شاباش! دل خوش کر دیا تم نے، بہت خوبصورت پیغام تھا۔ مزہ آ گیا آج تو عبادت کا۔ جیتے رہو۔‘‘
روبن نے عاجزانہ انداز میں جواب دیا، ’’بس ماموں جی، یہ سب خداوند کی کرم نوازی اور اُس کا فضل ہے۔‘‘
اِتنے میں بشیر نے میز پر کھانا لگا دیا۔ مسٹر عرفان نے سب کو کھانے کی دعوت دی اورسب کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔
’’
بھئی کھانے کی رنگت اور خوشبو تو لاجواب ہے۔ واہ! بشیر میاں، تم تو ماہر ہو گئے کھانا بنانے میں۔ کمال کر دیا تم نے تو آج،‘‘ مسٹر فرانسس نے شامی کباب کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے تعریف کی۔ بشیر نے مسٹر فرانسس کا شکریہ ادا کیا اور باورچی خانے میں چلا گیا۔
کھانے کے بعد بیگم نسرین نے بچوں کو آپس میں باتیں کرتے دیکھا تو بولیں، ’’چلو بچو، تم سب اُوپر اپنی محفل لگاؤ۔ ہم بوڑھے نیچے کچھ خاندان کے تعلق سے باتیں کرتے ہیں۔ کیوں رِفعت بھابھی؟‘‘
’’
ہاں ہاں ضرور! بہت دِنوں کے بعد اکٹھے ہوئے ہیں۔ اِنجوائے کرو، بچو،‘‘ بیگم رِفعت نے مُسکراتے ہوئے کہا۔
مسڑ فرانسس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے دونوں عورتوں کے فیصلے سے اُنہیں کوئی خوشی نہ ہوئی ہوپر وہ خاموش رہے۔ بچوں کے اُوپر جانے کے بعد بشیر نے سب کو چائے پیش کی اور دو کپ چائے اُوپر لے گیا کیونکہ تابندہ اور صوفیہ نے پہلے ہی چائے کے لئے منع کر دیا تھا۔ سب مزے سے چائے کی چُسکیاں لینے لگے۔
’’
نسرین تمہیں مبارک ہو۔ تمہارا بیٹا روبن بڑا ذہین اور قابل ہے۔ خدا کے ساتھ اُس کی محبت دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔ اور مَیں سمجھتا ہوں اِس میں تمہاری بہت محنت شامل ہے،‘‘ مسٹر فرانسس والہانہ انداز میں روبن کی تعریف کر رہے تھے۔ ’’اور ایک ہمارے صاحب زادے ہیں جو ہر ایک کام میں پیچھے ہیں، نہ پڑھائی نہ کوئی ہُنر اور نہ ہی خدا میں کوئی دلچسپی۔ کاش رِفعت بیگم نے بھی اپنے بچوں پر دھیان دیا ہوتا جیسے تم نے اپنے بچوں کو قابل اور پُراعتماد بنایا ہے!‘‘ مسٹر فرانسس کی باتیں سُن کر بیگم رِفعت کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
’’
بھائی جان مَیں خود آپ سے اِس موضوع پر بات کرنا چاہتی تھی۔ اچھا ہوا آپ نے خود ہی ذکر کر دیا،‘‘ نسرین بیگم نے صوفے پر ایک طرف ٹیک لگاتے ہوئے بولنا شروع کیا، ’’اگر آپ اِجازت دیں تو مَیں کچھ کہہ سکتی ہوں؟‘‘
’’
ہاں ہاں ضرور۔ تم میری چھوٹی بہن ہو اور پھر بھائی بہن میں کیسا پردہ۔ تم جو کہنا چاہتی ہو کہو تمہیں اِجازت ہے۔‘‘
’’
شکریہ بھائی جان، آج مَیں اپنے دل کی بات آپ سے کرنا چاہتی ہوں۔ میرے بچوں کی قابلیت اور اُنہیں پُراعتماد بنانے میں مجھ سے کہیں زیادہ عرفان کا ہاتھ ہے کیونکہ مجھ سے زیادہ یہ بچوں کو وقت دیتے ہیں۔ آپ نے ابھی ذکر کیا کہ سنی ہر کام میں پیچھے ہے، لیکن شاید آپ کو علم نہیں کہ اُس کا آرٹ ورک کتنا اچھا ہے۔ وہ کتنی خوبصورت کہانیاں لکھتا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اُس میں کلامِ مُقدس کی کتنی گہری سُوجھ بُوجھ ہے۔ وہ اکثر اپنی کہانیاں ای میل کے ذریعے روبن کو بھیجتا رہتا ہے۔ اِن کہانیوں میں اُس کی مہارت، مشاہدہ اور زُبان پر دسترس دیکھ کر مَیں تو حیران ہو جاتی ہوں۔ روبن کے ساتھ کلامِ مُقدس کے بڑے پیچیدہ موضوعات پر بڑی موثر گفتگو کرتا ہے۔‘‘
’’
نسرین یقین کرو مجھے تمہاری باتیں سُن کر حیرت ہو رہی ہے کیونکہ اِن میں سے مجھے کسی بات کا علم نہیں۔‘‘
’’
بھائی جان یہی تو ہم والدین کا مسئلہ ہے کہ ہم یا تو اپنے بچوں کی بے جا تعریف کرتے ہیں جس سے اُن میں فخر اور گھمنڈ آ جانے کا خطرہ ہوتا ہے یا پھر ہم اُن کی ہر بات پر اِتنی تنقید کرتے ہیں کہ اُن کی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں،‘‘ بیگم نسرین بغیر رُکے بولتی رہیں۔ ’’مجھے تو لگتا ہے سنی، روبن سے بھی زیادہ قابل اور ذہین ہے۔‘‘
’’
نسرین مجھے لگتا ہے تم غلط فہمی کا شکار ہو،‘‘ مسٹر فرانسس نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’
بھائی جان آپ مجھے بات توپوری کر لینے دیں۔‘‘
مسڑ فرانسس نے چائے کی چُسکی لیتے ہوئے کہا، ’’ہاں ہاں تم کرو اپنی بات مکمل مَیں سُن رہا ہوں۔‘‘
’’
شاید آپ میری بات سے اتفاق نہ کریں، لیکن آپ کے بے جا تنقیدی رویے سے بچے سہم سے گئے ہیں، اُن کے اندر ایک خوف سا بیٹھ گیا ہے۔ اپنی شادی سے پہلے مَیں بھی آپ سے اِسی طرح ڈرتی تھی کیونکہ مجھے آپ کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا۔ پتا نہیں کیوں میرے دل میں یہ بوجھ ہے کہ مَیں آپ سے درخواست کروں کہ اپنے رویے کو کچھ نرم کریں۔ چند ماہ پہلے جب مَیں آپ کے گھر دو دن کے لئے آئی تھی تو دُعا کے دوران اور دُعا کے بعد آپ کا رویہ بہت سخت تھا۔‘‘
مسٹر فرانسس حیرت سے اپنی بہن کو دیکھ رہے تھے اور یہی کیفیت بیگم رِفعت اور مسٹر عرفان کی بھی تھی۔ کیونکہ آج تک کسی نے مسٹر فرانسس کے ساتھ اِس طرح براہِ راست کسی موضوع پر بات کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔
’’
مَیں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ اپنے بچوں اور بھابھی رِفعت سے محبت نہیں کرتے۔ ہرگز میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ آپ تو اُن کی بھلائی اور بہتری چاہتے ہیں اور اِن سب سے بہت پیار کرتے ہیں پر ایک مسیحی ایمان دار کو اِتنا سخت اور غصے والا نہیں ہونا چاہئے۔ بھائی جان پلیز آپ مجھے غلط نہ سمجھیں،‘‘ بیگم نسرین نے اِلتجا کے انداز میں کہا۔
’’
نہیں، نہیں، نسرین تم کہو مَیں سُن رہا ہوں۔‘‘
’’
بھائی جان ہم سب میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ضرور ہوتی ہیں، لیکن اگر ہم کسی کی خامیوں کو ہی دیکھتے رہیں تو ہم اُس شخص سے زیادتی کرتے ہیں کیونکہ اِس طرح ہم اُس کی خوبیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ میرے اندر بہت کمزوریاں ہیں پر مَیں عرفان کی تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ وہ میری خامیوں پر بہت کم جب کہ میرے کردار میں موجود اچھی باتوں کا اکثر تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ اور مَیں خدا کی شکرگزار ہوں کہ اُس نے مجھے ایک محبت کرنے والا شوہر عطا کیا ہے۔‘‘
مسٹر عرفان کھِل کھِلا کر ہنسے۔ ’’مجھے تو لگا تھا نسرین تم بھائی جان سے میری شکایت کرو گی۔ مَیں تو سچ مچ ڈر گیا تھا۔ پر تمہارا شکریہ کہ تم نے ایسا نہیں کیا۔‘‘ مسٹر عرفان کی اِس بات سے سب کے چہروں پر مُسکراہٹ پھیل گئی۔
’’
بھائی جان آپ ایک ذمہ دار شخص ہیں۔ ابو کے مرنے کے بعد آپ نے نہ صرف گھر کی ساری ذمہ داریوں کو بڑے احسن طریقے سے سنبھالا بلکہ آپ نے اپنی تعلیم سے زیادہ میری تعلیم پر توجہ دی۔ یہ آپ ہی کی محنتوں کا ثمر ہے کہ مَیں آج اپنے گھر میں پُر سکون زندگی بسر کر رہی ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بیگم نسرین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
یہ دیکھ کر مسٹر فرانسس اپنی جگہ سے اُٹھے اور جاکر اپنی بہن کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے لگے اور بڑے نرم لہجے میں بولے، ’’نسرین، اِس میں میرا کچھ کمال نہیں۔ یہ سب میرے خداوند کا فضل ہے جس کی بدولت مَیں یہ سب کچھ کر پایا۔ ہم سب کو خداوند کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں سب اُسی کی مہربانی اور برکت سے ہیں۔‘‘
’’
بھائی جان پلیز میری باتوں کا بُرا نہ منایئے گا،‘‘ بیگم نسرین نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’
بھئی اِس میں بُرا منانے کی کیا بات ہے؟ تم میری بہن ہو اور مجھے اچھا لگا کہ تم میرے اور میرے گھرانے کی بہتری کے لئے سوچتی ہو۔ مَیں تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔‘‘ مسٹر فرانسس نے مُسکراتے ہوئے اپنی بہن کی طرف دیکھا۔
’’
میرا خیال ہے اب ہمیں گھر کے لئے روانہ ہونا چاہئے صبح بچوں نے جلدی اُٹھنا ہو گا، سنی نے کالج اور صوفیہ نے سکول جانا ہے،‘‘ بیگم رِفعت دھیمی آواز میں بولیں۔
’’
ہاں ہاں بالکل! باتوں میں تو وقت کا پتا ہی نہیں چلا،‘‘ مسٹر فرانسس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
’’
آ جاؤ بچو بہت دیر ہو گئی، اب گھر چلیں بس،‘‘ بیگم رِفعت نے اُونچی آواز لگائی۔
بیگم نسرین ،مسٹر عرفان اور اُن کے بچے گیٹ پر مہمانوں کو خدا حافظ کہنے کے لئے کھڑے تھے۔’’عرفان تم لوگ کس دن آ رہے ہو ہمارے گھر؟‘‘ مسڑ فرانسس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
’’
بھائی جان آپ بلائیں تو سہی ہم تو بھا بھی رِفعت کے مزے دار کھانوں کا بے تابی سے انتظار کرتے ہیں۔‘‘ مسٹر عرفان کی بات پر سب ہنس پڑے۔
’’
چلو پھر کرتے ہیں تمہاری دعوت،‘‘ مسٹر فرانسس نے مسٹر عرفان کو گھورتے ہوئے کہا۔ ’’خدا حافظ!‘‘ یہ کہہ کر اُنہوں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ گاڑی میں مسٹر فرانسس، بیگم رِفعت اور اِرم تو بالکل خاموش تھے پر سنی اور صوفیہ ہلکی ہلکی کھُسر پھُسر کر رہے تھے۔ واپسی پر مسٹر فرانسس نے تیز گاڑی چلائی اِس لئے گلبر گ آنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ گھر پہنچتے ہی سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
سنی، صوفیہ اور اِرم نے کچھ دیر مل کر دُعا کی اور پھر اپنے بستروں میں سو گئے۔ بیگم رِفعت بھی تھوڑی دیر میں سو گئیں، لیکن مسٹر فرانسس اپنے بستر پر لیٹے گہری سوچ میں گم تھے۔ اُن کی بہن کی کہی ہوئی باتیں فلم کی طرح اُن کے ذہن میں چل رہی تھیں۔ وہ سوچ رہے تھے کہ رِفعت نے اِن پچیس سالوں میں میری بہت خدمت کی ہے پر مَیں نے ہمیشہ اُسے لوگوں کے سامنے ذلیل کیا ہے۔ مَیں نے کبھی اُس کی تعریف نہیں کی، اُلٹا اُسے ہر وقت ڈانٹتا رہتا ہوں۔ مَیں اُسے حوصلہ دینے کے بجائے ہمیشہ اُس کی حوصلہ شکنی کرتا ہوں۔ مَیں اُس کی محبت کا جواب نفرت سے دیتا ہوں۔ مَیں اُس کی ساری اچھائیوں کو نظر انداز کر کے اُس کی چند خامیوں کو ہی دیکھتا رہا اور یہی سب کچھ مَیں نے اپنے بچوں کے ساتھ بھی کیا ہے۔ خدایا مَیں کتنا غلط تھا، مجھے معاف کر دے! مَیں نے تیرا اور تیرے بچوں کا دل دُکھایا ہے۔
مسٹر فرانسس کے دل میں ندامت، پریشانی، اور گھبراہٹ کے مِلے جُلے خیالات تھے۔ اُن کی آنکھیں نم تھیں اور وہ بے چینی کے عالم میں بستر پر اِدھر اُدھر کروٹیں بدل رہے تھے۔ اُنہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب اُنہوں نے کیا کرنا ہے۔
اگلے دن مسٹر فرانسس ناشتے پر بالکل خاموش رہے۔ اُنہوں نے بیگم رِفعت کو کسی بات پر نہ ڈانٹا۔ اُن کے لہجے میں بھی غیر معمولی تبدیلی تھی۔ وہ بیگم رِفعت سے بڑی محبت سے بات کر رہے تھے۔ ’’رِفعت آج شام کو اپنی پسند کا کوئی مزیدار سا کھانا بنا کر کھلاؤ، بھئی کئی دِنوں سے اِرم اور صوفیہ ہی کھانا پکا رہی ہیں۔‘‘
بیگم رِفعت مسٹر فرانسس کی اِس بات سے بہت حیران ہوئیں کیونکہ آج تک مسٹر فرانسس ہی بتا کر جاتے تھے کہ آج گھر میں کیا پکے گا۔
’’
جو آپ کہیں وہ بنا لوں گی،‘‘ بیگم رِفعت نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
’’
رِفعت مَیں نے کہا کہ تم اپنی پسند سے کچھ بناؤ۔‘‘ مسٹر فرانسس کے چہرے پر ہلکی سی مُسکراہٹ تھی۔ ’’آج مجھے جلدی دفتر جانا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ گاڑی کی طرف چل پڑے۔ ’’شام کو ملتے ہیں،‘‘ مسٹر فرانسس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا اور گاڑی سٹارٹ کر کے دفتر چلے گئے۔
بیگم رِفعت کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے اِرم نے اُن سے پوچھا، ’’امی آج تو آپ بہت خوش لگ رہی ہیں۔ کوئی خاص بات لگتی ہے۔‘‘
بیگم رِفعت نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’ہاں بیٹا! بڑی خاص بات ہے۔ آج بڑے لمبے عرصے کے بعد تمہارے ابو نے مجھ سے ہنس کر بات کی ہے اورمجھے یہ کہہ کر گئے ہیں کہ مَیں اپنی پسند کا کوئی کھانا بناؤں۔‘‘
’’
ارے واہ! یہ تو واقعی بڑی خاص اور خوشی کی بات ہے۔ چلیں اِسی بہانے ہمیں بھی بہت دِنوں کے بعد آپ کے ہاتھوں کا لذیذ کھانا کھانے کو ملے گا۔ ویسے کیا بنا رہی ہیں آج آپ؟‘‘
’’
مَیں نے سوچا ہے بریانی کے ساتھ شامی کباب بنا لوں۔ تم بس رائتے کے لئے مجھے پودینے کی چٹنی بنا دو۔ باقی کام مَیں کر لوں گی۔‘‘
’’
امی، میٹھے میں کچھ نہیں بنا رہیں؟‘‘ اِرم نے سوالیہ نظروں سے بیگم رِفعت کو دیکھا۔
’’
میٹھے میں جو تم کہو بنا لیتے ہیں۔‘‘
’’
م م م م م... میٹھے میں توآپ جانتی ہیں کھیر ہم سب کی پسندیدہ ہے۔‘‘
’’
تو بس پھر شام کو تمہیں کھانے کے ساتھ ٹھنڈی اور مزیدار کھیر بھی مل جائے گی۔ خوش؟‘‘
’’
امی، خوش نہیں، خوش باش!‘‘ دونوں کھلکھلاا کر ہنس دیں۔
شام کو مسٹر فرانسس گھر آئے تو وہ بالکل خاموش تھے۔ اُنہوں نے کسی سے کوئی بات نہیں کی بلکہ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اپنے کمرے میں ہی بیٹھے رہے جب کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ آتے ہی گھر میں ہنگامہ کھڑا کر دیتے تھے۔
جس بات نے سب کو اَور بھی حیران کیا وہ یہ تھی کہ سات بجنے پر بھی وہ اپنے کمرے سے باہر نہ نکلے۔ بیگم رِفعت، اِرم، صوفیہ اور سنی کچھ دیر تو انتظار کرتے رہے۔ آخر کار اِرم نے بیگم رِفعت سے کہا،’’ امی آپ جا کر دیکھیں تو سہی کہ ابو آج دُعا کے لئے باہر ڈرائنگ رُوم میں کیوں نہیں آ رہے؟‘‘ سنی اور صوفیہ نے بھی اِرم کی تائید کی۔ بیگم رِفعت دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں تو اُنہوں نے دیکھا کہ مسٹر فرانسس چہرے کو ہاتھوں میں چھپائے پلنگ کے کونے پر بیٹھے ہیں۔
بیگم رِفعت نے بڑے پیار سے مسٹر فرانسس کو مخاطب کیا، ’’خیر توہے؟ سات بج گئے ہیں۔ آپ دُعا کے لئے باہر ڈرائنگ رُوم میں نہیں آئے۔‘‘
مسٹر فرانسس کے جواب نہ دینے پر بیگم رِفعت نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’جی مَیں نے کہا کہ سات بج گئے ہیں۔‘‘ پر مسٹر فرانسس کو روتے دیکھ کربیگم رِفعت پر توجیسے سکتہ چھا گیا۔ ’’خیر تو ہے، آپ رو رہے ہیں؟ طبیعت توٹھیک ہے آپ کی؟ اِرم، صوفیہ، سنی جلدی آؤ بچو!‘‘ بیگم رِفعت نے پریشانی سے اُن تینوں کو آواز دی۔
وہ تینوں جو پہلے ہی پریشان تھے بیگم رِفعت کی آواز سُن کر دوڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ ’’سنی مجھے تمہارے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘
’’
رِفعت، مَیں بالکل ٹھیک ہوں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تم سب بس میرے پاس بیٹھو۔‘‘ چاروں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔’’ مَیں تم لوگوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں پر سمجھ نہیں آ رہا کہ بات کیسے شروع کروں۔ رِفعت مَیں آج تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے ہمیشہ تمہاری تذلیل کی ہے۔ مَیں نے ہمیشہ تمہارا دِل دُکھایا ہے، مَیں سب معاملات میں صرف تمہیں ہی ذمہ دار ٹھہراتا رہا۔ اپنی غصیلی اور چِڑچِڑی طبیعت سے مَیں نے نہ جانے اب تک تمہیں کتنی تکلیف پہنچائی ہے۔‘‘
اِرم نے سنی اور صوفیہ کی طرف آنسو بھری نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ خدا اپنے لوگوں کی دُعاؤں کا جواب دیتا ہے۔
’’
اِرم، صوفیہ اور سنی، مَیں تم لوگوں سے بھی شرمندہ ہوں۔‘‘
’’
نہیں ابو! آپ ایسا نہ کہیں!‘‘ صوفیہ نے کہا اور جھٹ سے اپنے ابو کے گلے لگ کر رونے لگی۔
سنی بھی اُن سے لپٹ گیا، ’’ابو آپ ہمیں بھی معاف کر دیں اور خاص طور پر مجھے کیونکہ مَیں ہمیشہ آپ سے بحث کرتا اور اپنے کاموں سے آپ کو غصہ دِلاتا رہا۔‘‘
’’
نہیں سنی، غلطی تم لوگوں کی نہیں، غلطی تو میری تھی۔ مَیں تم لوگوں پر ہمیشہ اپنی مرضی مسلط کرتا رہا۔ مَیں نے کبھی خیال ہی نہیں کیا کہ تم لوگوں کے بھی جذبات ہیں، تم لوگوں کی بھی خواہشات ہیں۔ مَیں ہمیشہ اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتا رہا۔ مَیں نے کبھی تم لوگوں کی اچھی باتوں پر غور ہی نہیں کیا۔ مَیں تو بس تمہاری خامیوں کا ڈھنڈورا پِیٹتا رہا۔ کاش مَیں ایسا نہ کرتا! کاش مَیں تمہارے چہروں سے تمہاری مُسکراہٹ نہ چھینتا۔‘‘
’’
چلیں اب بس بھی کریں جو کچھ ہوچکا اُسے بھول جائیں،‘‘ بیگم
رِفعت نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’
رِفعت تم کل شام نسرین، عرفان اور اُن کے بچوں کو کھانے کی دعوت پر بُلاؤ۔ مَیں نسرین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،‘‘ مسٹر فرانسس نے رُومال سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔ ’’سنی، اب تم شکر گزاری کی دُعا کرو اور آج سے تم ہی عبادت میں ہماری راہنمائی کیا کرو گے،‘‘ مسٹر فرانسس نے مُسکراتے ہوئے سنی کی طرف دیکھا،’’آئیں ہم سب خداوند کی شکر گزاری کریں جو ہمارے لئے بڑے بڑے کام کرتا ہے۔‘‘ سب نے خدا کا شکر کیا اور بڑے عرصے بعد سب نے مِل کر مزے سے بیگم رِفعت کے ہاتھ کا بنا کھانا کھایا۔
اُس دِن سے آج تک مسٹر فرانسس کے گھر میں ہر کسی کو سات بجنے کا انتظار رہتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Adbox

@templatesyard