Read Sunday School Story NO. 3

نام اور لیبل
سکول کے بعد آکاش گھر واپس آیا تو سیدھا کچن میں امی جان کے پاس گیا۔اور زورسے اپنی کتابیں میز پرپھینک دیں اور کہنے لگا
’’بس امی جان!میں اب دوبارہ سکول نہیں جاوں گا، امی جان نے حیرانگی سے پوچھا کیوں بیٹاایساکیا ہوگیا جوتم سکول نہیں جانا چاہتے؟‘‘
’’امی جان سکول میں بچے ہر وقت مجھے غلط ناموں سے پُکارتے ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اُن کے گروپ میں شامل ہو جاؤں اوراُن کی طرح بچوں کو غلط ناموں سے پُکاروں، لیکن میں نے انکار کر دیاتو انہوں نے کہنا شروع کر دیا’چوزا۔۔۔چوزا۔۔۔ آکاش تو چوزاہے۔۔۔!‘
امی جان نے کھانے کا ڈبہ کھولااورمسکراتے ہوئے آکاش سے کہا دیکھو بیٹا!اِس ڈبے پر’green beans'کالیبل لگا ہوا ہے ، لیکن اِس ڈبے کے اندر تو آڑو ہیں۔
آکاش خو شی سے کہنے لگا ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے،مجھے آڑو ہی پسند ہیں۔لیکن پھر اچانک سے آکاش کو اپنامسئلہ یاد آگیا۔’’لیکن امی جان!بچے مجھے ’چوزا ‘کہتے ہیں،میں کیا کروں؟‘‘
امی جان کہنے لگیں کہ’’ آکاش بیٹا!جب میں جوان لڑکی تھی تو ہم ایک نظم اکثر پڑھا کرتے تھے کہ:
لاٹھیاں اور پتھرمیر ی ہڈیوں کو توڑ سکتی ہیں
لیکن الفاظ سے مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی ‘‘
آکاش مایوسی سے کہنے لگا’’لیکن امی جان!الفاظ کئی بار تکلیف پہنچاتے ہیں،یہ ایک انسان کو اندر سے زخمی کر دیتے ہیں۔‘‘
امی جان نے کہا ’’ہاں بیٹا الفاظ تکلیف تو پہنچاتے ہیں پر اگرتم اِنہیں موقع دو تو،بچے آپ کو ’چوزہ ‘کیوں کہتے ہیں؟‘‘آکاش نے بتایا ’’کیونکہ میں نے اُن کے گروپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا،اسلئے
اُنہیں لگتا ہے کہ میں ڈرتا ہوں،اور چوزے بھی آسانی سے ڈر جاتے ہیں اِسلئے وہ مجھے بھی چوزا کہتے ہیں۔‘‘
امی جان نے آکاش کو اپنے پاس بیٹھایا اور پیار سے سمجھا نے لگیں کہ’’ بیٹا اگر چوزا کہنے کا یہ ہی مطلب ہے توحقیقت میں وہ بچے چوزے ہیں جو اِس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ کسی اچھی بات کے لئے لڑیں گے تو لوگ اُن کا مذاق اُڑائیں گے۔
’’میرے بیٹے !تم چوز ے نہیں ہو!تم میرااور اپنے ابا جان کا ہر حکم مانتے ہو،اور اچھی بات کے لئے ہمیشہ آواز بلند کرتے ہو،پھر اُنہوں نے آڑو کا ڈبہ اٹھا یا اورکہا اب اسے ہی دیکھ لوکیا فرق پڑتا ہے کے اِس ڈبے پر green beanکا لیبل لگا ہوا ہے اِس کے اندر توآڑو ہی ہیں نہ!، اِسی طرح اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ تمہارے بارے میں کیا سوچتے،یا کیا بولتے ہیں؟اصل فرق اِس بات سے پڑتا ہے کہ تم حقیقت میں کیا ہو۔۔۔؟؟
سو جب اگلی دفعہ اُن بچوں نے تمہیں چوزا کہاتوتم اُنہیں بتادینا کہ’’ میں چوزا نہیں ہوں،بلکہ میں ایک مسیحی ہوں اور اسی لئے میں کسی بات سے نہیں ڈرتا۔‘‘
پیارے دوستوں!کیا آپ نے کبھی لوگوں کے غلط نام رکھے ہیں وہ بھی صرف اِس وجہ سے کے آپ نے اُنہیں غلط کام کیلئے منع کر دیا؟دوستوں مسیح کے ساتھ سچائی سے چلیں،اور اِس بات کی کبھی فکر نہ کریں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے یا کیا بولتے ہیں؟
ؓبائبل مقدس کا حوالہ:۔ ۱۔پطرس۱۷:۳
’’کیونکہ اگر خُدا کی یہ ہی مرضی ہو کہ تم نیکی کرنے کے سبب سے دُکھ اُٹھاؤتو یہ بدی کرنے کے سبب سے دُکھ اُٹھانے سے بہتر ہے۔‘‘

No comments:
Post a Comment